کاروار:02/ستمبر (ایس اؤنیوز) انکولہ تعلقہ کے ڈونگری اور آس پا س کے دیہی عوام کےبرسوں کی دیرینہ مانگ آخر کار پوری ہوگئی ہے، علاقہ میں بہنے والی گنگاولی ندی پر جھولتا پُل تعمیر ہونے کے بعد دوپہیہ کی سواریاں اور راہ گیر اس کے ذریعے فاصلہ طئے کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔
تعلقہ کے ڈونگری پنچایت حدود میں ہیگرنی ، بیدرلی اور مللگاؤں نامی دیہات شامل ہیں جہاں کل 600سے زائد خاندان بستےہیں، زندگی کے گزارے کے لئے یہ لوگ زراعت اور باغبانی پر انحصار کرتے ہیں۔ علاقہ کے سبھی دیہی عوام کو اپنی گھریلو اور روزمرہ کی ضروری اشیاء سمیت ہر ایک چیز کے لئے انہیں گنگاولی ندی پار کرکے 4-3 کلومیٹر دور کے سنکسال نامی دیہات کو ہی جانا ہوتا تھا، وہاں جانے کے لئے دیہی عوام کو گنگاولی ندی پار کرنے کے لئے چھوٹی سی کشتی کا سہارا لینا مجبوری تھی۔اور اگر ندی کشتی کے ذریعے یا تیر کر پار نہیں کرسکتے توایسے بدترین حالات تھے کہ قریب 25کلومیٹر کی دوری کو طئے کرکے سنکسال پہنچنا ہوتا تھا۔ ان حالات اور پریشانی کو دیکھتے ہوئے علاقہ کے دیہی عوام برسوں سے گنگاولی ندی پر جھولتا پل تعمیر کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔
ساحلی ترقی بورڈ سے منظورشدہ 1.65کروڑ روپیوں کی لاگت سے سلیا کے گریش بھاردواج کی پلاننگ اور ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے یہ برج تعمیر کیا گیا ہے۔ پل کی لمبائی 135میٹر ہے تو 1.20میٹر چوڑائی ہے۔ جس پر بائک سوار اور دوپہیہ سواریا ں بآسانی گزرسکتے ہیں، جنوری کے مہینے سے پل کی تعمیرشروع ہوئی تھی جو مارچ کے آخر میں تکمیل کو پہنچی ہے۔

جھولتے پل کی تعمیر پر دیہی عوام کی خوشی و مسرت کا ٹھکانہ نہیں ہے، اس پرمسرت موقع پر ڈونگری کے مکین راجو ٹی نائک نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہماری زندگی کے لئے زراعت آبِ حیات کا درجہ رکھتی ہے، دھان کی فصل اگاتے ہیں، ہمیں روزانہ اپنی ضروریات کے لئےندی پار کرکے 3-4کلومیٹر کا فاصلہ طئے کرکے سنکسال دیہات پہنچتے تھے، اگر نہیں تو ہیگرنی ، ہوسکمبی ، ماستی کٹا سے ہوتے ہوئے سنکسال جاتے۔ سڑک کے ذریعے جاناہے توہمیں 25کلومیٹر کا فاصلہ ہوتا، بس کی سہولیات بھی نہیں تھیں، موسم باراں میں ندی کی طغیانی میں ہی جان ہتھیلی پر لے کر کشتی کے سہارے جاتے ، مریضوں کو بھی اسی طرح لے جانے کی مجبوری تھی ، ایسے درگت والے حالات میں ہم جی رہے تھے، اب جھولتے پل کی تعمیر سے تمام مسائل دور ہونے کی بات اپنی آنکھوں سے خوشی کے آنسو پوچھتے ہوئے راجو نے کہی۔
ڈونگری دیہات میں صرف 1سے 5ویں جماعت کی تعلیم کے لئے سرکاری پرائمری اسکول ہے، اس کے بعد پڑھائی کرنا ہے تو سنکسال دیہات اور کالج کے لئے اگسور یا انکولہ ہماری مجبوری ہے۔ ندی پار کرناسب کے لئے بڑا مشکل مرحلہ تھا۔ اب جھولتے پل کی تعمیر سے ہمارے دیہی بچوں کی تعلیم کے لئے کئی آسانیاں فراہم ہونے کا ڈونگری کے ہی ایک اور نوجوان راگھوویندر نے خیال ظاہر کیا۔